-->
 بنیان - کوفتہ اور بہت کچھ

بنیان - کوفتہ اور بہت کچھ




 بنیان

بنَین لَین جاندے ہو
بنَین لے کے آندے ہو
پاندے ہو تے پیندی نئیں، پے جائے تے لہندی نئیں
لہہ جائے تے دوجی واری پان جوگی رہندی نئیں
بنَین میں دیاں‌گا
پاؤ گے تے پے جائے، لاہو گے تے لہہ جائے
لہہ جائے تے دوجی واری پان جوگی رہ جائے
بنَین میری ودھیا، بنَین میری ٹاپ دی
وڈیاں نوں پوری آوے، نِکیاں دے ناپ دی
چیز ہووے اصلی تے مونہوں پئی بولدی
دھُپ نالوں گوری لگے رسی اُتے ڈولدی
جِنّے ورہے چاہو تُسی ایس نوں ہنڈا لئو
فیر بھانویں بچیاں دا جانگیا بنا لئو​

Baca Juga




کوفتہ

بوٹی لئی تے ٹوکے دے نال قیمہ قیمہ کیتی
محنت کر کے اس قیمے دی فیر بنائی بوٹی
فیر بنایا قیمہ اسدا رکھ کے دنداں تھلے
شاوا بلے بلے
میں سالن کھاواں نالے ہساں تِما تِما
بوٹی قیمہ، قیمہ بوٹی، مڑ بوٹی دا قیمہ
کوفتے ورگا لگا مینوں سارا سفر اساڈا
پانی دے وچ پینڈا کچھیا کھا کھا لمے غوطے
جیہڑی تھاں توں ٹرے ساں انور، اوتھے ای آن کھلوتے







انور مسعود کی سیاسی شاعری


مجھے گر منتخب کر لو گے بھائی
پنپنے کی نہیں کوئی برائی

مجھے کہنا کہ ناقص ہے صفائی
گٹر سے بھی اگر خوشبو نہ آئی

رہا کچھ بھی نہیں باقی وطن میں
مگر اک خستہ حالی رہ گئی ہے
ترستی ہیں نگاہیں روشنی کو
فقط روشن خیالی رہ گئی ہے

ترقی اس قدر برپا ہوئی ہے
کسی صورت کوئی گھاٹا نہیں ہے
بس اتنی سی پریشانی ہے انور
الیکشن سر پہ ہے آٹا نہیں ہے

کیونکر نہ انتخاب میں وہ ہو گا کامیاب
جس کی بھی دسترس میں ہے یہ حسن انتظام
جھرلو عجیب شے ہے کہ ووٹوں کی پرچیاں
ڈالو کسی کے نام نکالو کسی کے نام

مریض کتنے تڑپتے ہیں ایمبولینسوں میں
ان کا حال ہے ایسا کہ مرنے والے ہیں
مگر پولیس نے ٹریفک کو روک رکھا ہے
یہاں سے قوم کے خادم گزرنے والے ہیں



لاریب ساعت


ختم ہو جائیں گے سب تکیے، بھروسے ایک دن
اِک فقط حسنِ عمل کا آسرا رہ جائے گا
اُس گھڑی کا خوف لازم ہے، کہ انورؔ جس گھڑی
دھر لیے جائیں گے سب اور سب دھرا رہ جائے گا





بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے ترے ۔ انور مسعود


بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے ترے 
انوکھے انوکھے خسارے ترے

اللے تللے ادھارے ترے 
بھلا کون قرضے اتارے ترے

گرانی کی سوغات حاصل مرا 
محاصل ترے گوشوارے ترے

مشیروں کا جمگھٹ سلامت رہے 
بہت کام جس نے سنوارے ترے

مری سادہ لوحی سمجھتی نہیں 
حسابی کتابی اشارے ترے

کئی اصطلاحوں میں گوندھے ہوئے 
کنائے ترے استعارے ترے

تو اربوں کی کھربوں کی باتیں کرے 
عدد کون اتنے شمارے ترے

تجھے کچھ غریبوں کی پروا نہیں 
وڈیرے ہیں پیارے دلارے ترے

ادھر سے لیا کچھ ادھر سے لیا 
یونہی چل رہے ہیں ادارے ترے



"تجھے مجھ سے ، مجھے تجھ سے جو بہت پیار ہوتا " (انور مسعود)


تجھے مجھ سے ، مجھے تجھ سے جو بہت پیار ہوتا 
نا تجھے قرار ہوتا نا مجھے قرار ہوتا
تیرا ہر مرض الجھتا میری جانِ نا تواں سے 
جو تجھے زکام ہوتا تو مجھے بخار ہوتا
جو میں تجھے یاد کرتا ، تجھے چھینکنا بھی پڑتا 
میرے ساتھ بھی یقیناً ، یہی بار بار ہوتا
کسی چوک میں لگاتے جو چوڑیوں کا کھوکھا 
تیرے شہر میں بھی اپنا کوئی کاروبار ہوتا
غم و رنج عاشقانہ ، نہیں کیلکولیٹرانہ 
اسے میں شمار کرتا ، جو نہ بےشمار ہوتا
وہاں زیرِ بحث آتے ، خط و خال وخوئے خوباں 
غمِ عشق پر انور جو کوئی سیمینار ہوتا​




مشرف بہ ضیا ۔ انور مسعود

امریکہ سے جو روشنی آتی رہی پیہم
ہم اُس پہ دل و جاں سے فدا ہوتے رہے ہیں
کیا اس میں کوئی شک ہے کہ ایّوب سے اب تک
ہم لوگ مشرّف بہ ضیا ہوتے رہے ہیں




تماشہ

تفریح و تفنن کی محافل نہ سجاؤ
ٹی وی پہ خرافات کا میلہ نہ لگاؤ
یہ ماہِ مبارک ہے عبادت کا مہینہ
اس ماہِ مبارک کو تماشہ نہ بناؤ


اے برقی رو!

پنکھے کی رکی نبض چلانے کے لئے آ
کمرے کا بجھا بلب جلانے کے لئے آ
تمہیدِ جدائی ہے اگرچہ تیرا ملنا
"آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ"



کھٹکا

راہ چلتے ہوئے ناگاہ دبوچیں مجھ کو​
یہ تماشا سرِ بازار دکھانے لگ جائیں​
مجھ کو انورؔ یہی دھڑکا سا لگا رہتا ہے​
ملنے والے مری سیلفی نہ بنانے لگ جائیں​



میرا کیہ قصور اے؟



ٹاہلی ہیٹھاں ملنے دا
وعدہ اوہنے کیتا سی
ٹاہلی جتھے دَسی ساسُو
اوتھے تے کھجُور اے
اَہدے وچ تُسی دِسو
میرا کیہ قصور اے؟




غزل: کدی خیال وی آیا نئیں سی دُھپے وی ٹھر جانئیں۔۔۔انور مسعود


ایویں اوہنوں تڑھیاں دِتیاں کوچ اساں کر جانائیں
اوہدے شہروں دُوجی تھانویں کیہڑا کافر جانائیں

عشق نہ جس دے پلّے اُ س نے ہونائیں لیراں لیراں 
جس نوں کوئی کھچ نہ ہووے اُس نے کھلر جانا ئیں

خواباں وچ تکیاں نئیں سن ساڑن والیاں چھانواں
کدی خیال وی نئیں سی دُھپے وی ٹھر جانائیں

شاخاں جیہڑے ساوے پتر کُچھڑ چائے ہوئے
پیلی رُت وچ خورے ایہناں کِدھر کِدھر جانائیں

رونق پچھوں ہونی اے کُجھ گُوہڑی اور اُداسی
میلے نے کُجھ ہور وی کلیاں لوکاں نوں کر جانائیں

منزل تے جا اپڑے انورؔ پے گئے جیہڑے پینڈے
پُچھدے والے پُچھدے رہ گئی کِتھوں تیکر جانائیں





اپنی زوجہ سے کہا اک مولوی نے


اپنی زوجہ سے کہا اک مولوی نے
نیک بخت! تیری تُربت پر لکھیں تحریر کس مفہوم کی 
اہلیہ بولی، عبارت سب سے موزوں ہے یہی
دفن ہے بیوہ یہاں پر مولوی مرحوم کی 





 انور مسعود کے قطعات

چاند کو ہاتھ لگا آئے اہل ہمت
ان کو یہ دھن ہے کہ اب جانب مریخ بڑھیں
ایک ہم ہیں کہ دکھائی نہ دیا چاند ہمیں
ہم اسی سوچ میں ہیں عید پڑھیں یا نہ پڑھیں

بھینس رکھنے کا تکلف ہم سے ہو سکتا نہیں
ہم نے سوکھے دودھ کا ڈبا جو ہے رکھا ہوا
گھر میں رکھیں غیر محرم کو ملازم کس لیئے
کام کرنے کے لیئے ابا جو ہے رکھا ہوا​





مرد ہونی چاہیئے خاتون ہونا چاہیئے


مرد ہونی چاہیئے خاتون ہونا چاہیئے
اب گرائمر کا یہی قانون ہونا چاہیئے

رات کو بچے پڑھائی کی اذیت سے بچیں
ان کو ٹی وی کا بہت ممنون ہونا چاہیئے

دوستو! انگلش ضروری ھے ہمارے واسطے
فیل ہونے کو بھی اک مضمون ہونا چاہیئے

نرسری کا داخلہ بھی سرسری مت جانیئے
آپ کے بچے کو افلاطون ہونا چاہیئے

صرف محنت کیا ہے انور کامیابی کے لیئے
کوئی اوپر سے بھی ٹیلیفون ہونا چاہیئے











Related Posts

0 Response to " بنیان - کوفتہ اور بہت کچھ"

Post a Comment

Iklan Atas Artikel

Iklan Tengah Artikel 1

Iklan Tengah Artikel 2

Iklan Bawah Artikel