
اسلامی کیلنڈر کے بارہ مہینے اور وجہ تسمیہ
اسلامی کیلنڈر کے بارہ مہینے اور وجہ تسمیہ
مسلمانوں کے اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔
عرب قدیم میں اس کا شمار مقد س مہینوں میں تھا جب کہ لڑائی بند کر دی جاتی تھی اور لڑنا حرام سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے اس کا نام محرم رکھ دیا گیا۔ مسلمانوں کے ہاں یہ مہینا سوگ وغم اور عبادت کا ہے کیونکہ اس مہینے کی سات تاریخ سے یزید کی فوج نے حضرت امام حسینؓ کے لیے کربلا میں نہر فرات کا پانی بند کر دیا تھا اور چار روز بے آب ودانہ رہنے کے بعد آپ ؓ اور آپؓ کے ہمراہی اور اہل بیت شہد کر دیے گئے۔ اس مہینے میں شعبہ مسلمان مجلس منعقد کرتے علم اور تعزیہ
نکالتے اور ماتم کرتے ہیں عام الفیل کا مشہور واقعہ بھی اسی مہینے کی یاد گار ہے۔جس میں خدائے تعالیٰ نے ابا بیلوں کے لشکر سے خانہ کعبہ پر حملہ کر نیوالوں کو تباہ کر دیا تھا۔ اس واقعےکا ذکر سورۃ فیل میں موجود ہے۔
صفر دوسرا اسلامی مہینہ ہے۔صفر کے مہینے میں درج ذیل واقعات رونما ہوئے۔
حضرت علی ؓکی شادی حضرت فاطمہؓ سے صفر کے مہینے میں شادی ہوئی۔
ربیع الاول تیسرا اسلامی مہینہ ہے۔
اس مقدس مہینے میں جنگ صفوان لڑی گئی۔
دو مشہور شخصیات حضرت خواجہ نظام الدینؒ اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی اسی مہینے میں وفات ہوئی۔
اسلامی کیلنڈرکا پانچواں مہینہ جمادی الاوّل ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس کے نام رکھنے کےوقت ایسا موسم تھا کہ جس میں پانی جم جاتا تھا۔ اس مہینے کے مشہور واقعات یہ ہیں۔
اس ماہ کی ۱۵ تاریخ کو واقعہ اجمل پیش آیا۔
جمادی الثانی چھٹا اسلامی مہینہ ہے۔ جس وقت اس مہینے کا نام رکھا گیا اس وقت موسم کا آخر تھا جس میں پانی جمتا تھا۔ اس ماہ میں درج ذیل واقعات پیش آئے۔
اسی مہینے کی بیس تاریخ کو سیدہ خاتون جنت فاطمہؓ کی ولادت مبارکہ ہوئی تھی۔
اسلامی کیلنڈر کا ساتواں مہینہ ہے۔
زمانہ جاہلیت میں بھی اس کو مقدس اور حرمت کا مہینا سمجھا جا تا تھا۔ اس ماہ میں عمرہ کی رسم ادا کی جاتی تھی اور جنگ حرام سمجھی جاتی تھی۔ قریش اور قیس کے قبیلہ میں ایک جنگ اسی مہینا میں ہوئی تھی۔ جس کو جنگ فجار(فجور سے مشتق ہے) کہتے ہیں۔ اس میں حضورﷺ شرک ہوئے تھے لیکن آپ ﷺ نے کسی پر تلوار نہیں چلائی ۔ اہل اسلام اس مہینے کو اس واسطے متبرک سمجھتے ہیں کہ اس ماہ کی ستائیسویں شب کو واقعہ معراج ہوا۔ مسلمان ۲ رجب کو واقعہ معراج کی تقریب مناتے ہیں۔
ہجری سال کا آٹھواں مہینہ ہے۔
جس کی پندرہ تاریخ کو مسلمان شب برات کا تہوار مناتے ہیں۔ رات کو یاد الٰہی میں مشغول رہتے اور اگلے دن روزہ رکھتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ تمام رات عبادت میں گزارتے تھے۔ آپﷺ کے فرمان اور عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رات قبرستان میں جا کر مُردوں کے لیے دعائے مغفرت کرنے، خیرات کرنے اور جاگنے کا بڑا ثواب ہے۔ مسلمانوں کے نزدیک اس رات آنے والے پورے سال کے امور طے پاتے ہیں۔
اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے۔
جس میں مسلمانوں کو پورے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سال میں یہ مہینا سب سے زیادہ بابرکت سمجھا گیا ہے کیونکہ (سنہ ۲ ہجری)اسی مہینے میں قرآن پاک نازل ہوا۔ شب قدر کا گو قرآ ن پاک میں تعین نہیں ہے لیکن محدثین کے نزدیک یہ رات اسی مہینے میں ہوتی ہے۔ آنحضرتؐ کی زندگی اور حضوؐر کے بعد بھی چند واقعات ایسے ہوئے جنہوں نے اس مہینے کی اہمیت میں اضافہ کر دیا۔ 6 رمضان کو سیدالشہدا امام حسینؓ پیدا ہوئے۔ 10 رمضان کو حضرت خدیجہ ؓ کا انتقال ہوا۔ 17 رمضان کو بدر کا معرکہ پیش آیا جس میں مسلمانوں کوکفار کے مقابلے میں پہلی بار کامیابی ہوئی۔ 19کو فتح ہوا اور 21 رمضان کو حضرت علیؓ کی شہادت واقع ہوئی اور ستائیسویں شب کو لیلۃ القدرہوتی ہے۔ سیدہ فاطمتہ الز ہرہ ؓ اور جناب عائشہ صدیقہؓ کا انتقال بھی رمضا ن میں ہوا۔ اس مہینے کی عبادت بہت زیادہ مقبول ہے۔ نماز تراویح بھی اس خاص مہینے کی عبادت ہے۔ رمضان المبارک کے اختتام پر عید کا تہوار آتا ہے۔
اسلامی سال کا دسواں مہینہ ہے۔ اس کی پہلی تاریخ کو عید الفطر ہوتی ہے۔ اس مہینے کی فضلیت عید کی وجہ سے ہے۔ مسلمان اور خاص کر چھوٹے بچے اس دن بہت خوش نظر آتے ہیں۔ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔ میٹھے پکوان پکائے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے گھر بھجوائے جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں نفلی روزہ رکھنے کے واسطے عید کے بعد چھ دن کی فضلیت بیان کی گئی ہے۔
ذی العقد اسلامی کیلنڈر کا گیارھواں مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقدس مہینے میں لڑائی سے منع فرمایا ہے۔ اس مہینے میں لوگ اپنے آپ کو مقدس عبادت حج ہے کے لیے تیار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہ اسلامی کیلنڈر کا بارھواں مہینہ ہے۔ اس کی 9 تاریخ کو مسلمان فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔ 10 تاریخ کو قربانی کی سنت ادا کرتے ہیں۔ اس دن عیدالاضحی کی تقریب سارے عالم ِ اسلام میں منائی جاتی ہے اور مسلمان سنت ابراهیمی کے طور پر اللہ کی بارہ گاہ میں جانور قربان کرتے ہیں۔
0 Response to "اسلامی کیلنڈر کے بارہ مہینے اور وجہ تسمیہ"
Post a Comment